محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ
تمہاری کامیابی شور مچادے
تشریح :
یہ ایک موجب اور پروہیزگار اظہار ہے جو محنت اور خاموشی کے درمیان تعلقات پر مبنی ہے۔ یہ کہتا ہے کہ جب آپ محنت میں مصروف ہیں اور اپنی کارروائیوں کو خاموشی میں آگے بڑھاتے ہیں، تو آپکی کامیابی خود بہود اچھی طرح سے ظاہر ہوتی ہے اور لوگ اس پر شور مچاتے ہیں۔
یہ آپکو بتاتا ہے کہ ہمیشہ محنت کرتے رہیں اور اپنے کام میں مصروف رہیں، بغیر کہ دوسروں کو اپنی کامیابی کی تعریف کرنے کی ضرورت ہو۔ آپکا کام خود ہی آپکی محنت اور قابلیت کا پرچمہ بناتا ہے اور دوسرے خود ہی آپکی سختیوں اور کامیابی کا شور مچاتے ہیں۔
QUOTES NO : 2
منزلیں چاہے کتنی ہی اونچی کیوں نہ ہوں_
راستے ہمیشہ پیروں کے نیچے ہی ہوتے ہیں.
تشریح :
یہ کہاوت ایک حکمت زندگی کا پیغام دیتی ہے۔ جو منزلیں ہم طلب ہوتے ہیں، وہ چاہے کتنی بھی بلندیوں پر ہوں، راستے ہمیشہ دوسروں کے نیچے ہی ہوتے ہیں۔
اس میں یہ بات بیان ہوتی ہے کہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہمیں ہمیشہ اہلِ تجربہ افراد کی راہنمائی اور ان کی تعلیم سے استفادہ حاصل کرنا چاہئے۔ دوسروں کے تجربات اور حکمت کی روشنی میں ہمیں صحیح راستے کا انتخاب کرنا چاہئے تاکہ ہم بھی اپنے منزل کی طرف بہترین طریقے سے پہنچ سکیں۔
یہ بات یہاں بھی آئی ہوتی ہے کہ حقیقت میں کوئی بھی فرد اپنی کامیابی کی سیاہیلی راہ میں دوسروں کے تجربات اور رہنمائی کا استفادہ اٹھاتا ہے اور دوسروں کی راہنمائی سے ہمیشہ اچھے نتائج حاصل ہوتے ہیں۔
QUOTE NO : 3
کامیابی کے لیے آپ کو اکیلے ہی آگے بڑھنا پڑتا ہے
لوگ آپ کے ساتھ تب آتے ہیں جب آپ کا میاب ہو جاتے ہیں.
تشریح :
یہ اقتباس ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے انفرادیت اور خودیسیت کا اہمیت ہے۔ جب آپ اپنے مقصد کی طرف بڑھ رہے ہیں، تو اکثر مواقع ہوتے ہیں کہ آپ کو اپنے راستے پر تنہا ہی چلنا پڑتا ہے۔
لوگ آپ کے ساتھ اس وقت آتے ہیں جب آپ نے اپنی محنت اور توانائیوں کے ذریعے کچھ حاصل کیا ہوتا ہے۔ جب آپ کامیاب ہوتے ہیں، تو دوسرے لوگ آپ کے قدموں میں ہونا چاہتے ہیں اور آپ کی راہ چلنے کا انجام دیکھنا چاہتے ہیں۔
اس اقتباس سے یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ کامیابی کا راستہ مختصر اور مشکلات بھرا ہوتا ہے، لیکن جب آپ اس پر قائم رہتے ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا آپ کے ساتھ ہے اور آپ کی محنتوں کا انجام دیکھ کر دوسرے بھی آپ کی طرف متحرک ہوتے ہیں۔
QUOTES NO : 4
منزلیں ہمیشہ ان ہی کو ملتی تھی جو منزلوں کو تلاش کرتے ہیں






0 Comments